نئی دہلی،23/نومبر(ایس او نیوز/ایجنسی) الیکٹورل بانڈ کو لے کر ملک میں ہنگامہ برپا ہے۔ کانگریس سمیت سبھی اپوزیشن پارٹیاں اسے گھوٹالہ قرار دے رہے ہیں۔ الیکٹورل بانڈ کو لے کر آر بی آئی پہلے ہی سوال اٹھا چکا ہے۔ وہیں نیوز پورٹل ’نیوز لانڈری‘ نے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔ نیوز پورٹل کے مطابق وزارت مالیات نے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک نامعلوم چندہ دہندہ کو 10 کروڑ روپے کے ایکسپائر ہو چکے الیکٹورل بانڈ کو ایک نامعلوم سیاسی پارٹی کے اکاؤنٹ میں جمع کروانے میں مدد کی۔ یہ واقعہ کرناٹک اسمبلی الیکشن کے ٹھیک پہلے مئی 2018 کا ہے۔ نیوز پورٹل نے اس سے متعلق دستاویز موجود ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزارت مالیات نے یہ قدم ایک سیاسی پارٹی کے نمائندہ کی طرف سے ایس بی آئی پر ڈالے جا رہے دباؤ کے بعد کیا، جس کے بعد ایس بی آئی جو الیکٹورل بانڈ منصوبہ کو دیکھتی ہے، اس نے یہ ایکسپائر بانڈ قبول کر لیا۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دفتر نے غیر قانونی طریقے سے ان الیکٹورل بانڈ کو فروخت کرنے کے لیے 10 دن کا اضافی وِنڈو کھولنے کا حکم وزارت مالیات کو دیا تھا۔ وہ بھی کرناٹک الیکشن کے ٹھیک پہلے۔
رپورٹ کے مطابق سماجی کارکن کموڈور لوکیش بترا (سبکدوش) کے پاس موجود دستاویزوں کے ذخیرے کی جانچ کرنے پر پایا گیا کہ نہ تو اس میں چندہ دہندہ کا نام ہے نہ ہی چندہ حاصل کرنے والی سیاسی پارٹی کا نام ہے جس نے ایس بی آئی پر ایکسپائر بانڈ قبول کرنے کا دباؤ بنایا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جس طرح چوری چھپے ایک کے بعد ایک غیر قانونی قدم اٹھائے گئے اس نے ثابت کیا کہ ریزرو بینک، الیکشن کمیشن، اپوزیشن پارٹی، سماجی کارکن اور اے ڈی آر جیسے اداروں کا الیکٹورل بانڈ کی مخالفت جائز تھی۔
وہیں الیکٹورل بانڈ کو لے کر کانگریس نے جمعہ کو پارلیمنٹ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پارٹی نے اسے ’گھوٹالہ‘ اور ’جمہوریت کے لیے خطرہ‘ بتایا۔ ساتھ ہی لیڈروں نے اس ایشو پر وزیر اعظم نریندر مودی سے ایک بیان کا مطالبہ کیا۔ 6000 کروڑ کی ’ڈکیتی‘ کے بینر کے ساتھ کانگریسی لیڈروں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے ’بولو وزیر اعظم‘ کا نعرہ لگایا۔ کانگریس لیڈروں نے ’الیکٹورل بانڈ کاکا ہے، دن دہاڑے ڈاکہ ہے‘، ’الیکٹورل بانڈ بند کرو‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔